World
نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 950 سے زائد
نیپال اور چین میں شدید سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے نو سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ امدادی ادارے سرنگوں میں پھنسے ورکرز کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کر رہے ہیں۔
نیپال اور چین میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں انسانیت سوز المیہ جنم لے رہا ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے نو سو سے زائد ہو چکی ہے۔ موسلاہ دھار بارشوں اور پہاڑی تودے گرنے سے نظامِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ ریلیف اور ریسکیو آپریشنز میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سیلابی پانی کی نوعیت کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ سیمنٹ کی طرح گاڑھا اور خطرناک ہے جس نے راستے میں آنے والی ہر شے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
دوسری جانب، نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کے درجنوں کارکن اب بھی سرنگوں کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی ٹیمیں اور ریسکیو ورکرز ان سرنگوں تک پہنچنے کے لیے پہاڑی حصوں میں دھماکے کر رہے ہیں تاکہ ملبہ ہٹا کر پھنسے ہوئے افراد کو باہر نکالا جا سکے۔ لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں انتہائی بے چینی اور اضطراب کے عالم میں سرنگوں اور امدادی کیمپوں کے باہر دائرہ لگائے بیٹھے ہیں۔
اس قدرتی آفت نے خطے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے، جس میں سڑکیں، پُل اور بجلی کے ترسیلی نظام تباہ ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ہندوتوا یاتری جو کہ ماؤنٹ کیلاش کے مقدس سفر پر تھے، وہ بھی ان موسمیاتی تبدیلیوں اور ناگہانی آفات کی زد میں آئے ہیں۔ خطے میں موسمیاتی تغیرات کے اثرات تیزی سے خطرناک شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے مقامی انتظامیہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔
حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، تباہی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ تمام متاثرین تک فوری طور پر امداد پہنچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس انسانی المیے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ ممالک کو امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔