World
اسکاٹش حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ
اسکاٹش گرینز نے فرسٹ منسٹر جان سینی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے نئے پالیسی پروگرام میں اسرائیل کے خلاف مکمل بائیکاٹ اور پابندیوں کو شامل کریں۔ یہ مطالبہ فلسطینی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اسکاٹش حکومت کو یہ شدید ہدایات اور مطالبات موصول ہو رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کے خلاف سخت اور جامع پابندیوں کا نفاذ یقینی بنائے۔ اسکاٹش گرینز کی جانب سے فرسٹ منسٹر جان سینی سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے آئندہ 'پروگرام فار گورنمنٹ' میں اسرائیل کے بائیکاٹ اور اقتصادی پابندیوں کے جامع منصوبوں کو لازمی طور پر شامل کریں۔ اس سیاسی دباؤ کا مقصد فلسطین میں جاری انسانی بحران اور جنگی صورتحال کے پیش نظر اسکاٹش انتظامیہ کی طرف سے عملی اقدام اٹھانا ہے۔ مطالبہ کرنے والی جماعتوں اور انسانی حقوق کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اسکاٹ لینڈ کو عالمی سطح پر مظلوموں کی حمایت میں مضبوط آواز اٹھانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف زبانی بیانات ناکافی ہیں بلکہ عملی طور پر تجارتی، عسکری اور سفارتی تعلقات میں ایسی سخت پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر پر اثر انداز ہوں۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے اندر بھی بحث و مباحثہ جاری ہے جہاں مختلف رہنما حکومت پر زور دے رہے ہیں۔ اسکاٹش گرینز کے اراکین کا اصرار ہے کہ جان سینی کی قیادت میں بننے والا نیا حکومتی پروگرام اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی عکاسی کرے۔ اگرچہ حکومت کو اس معاملے پر اندرونی و بیرونی قانونی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے دنوں میں اسکاٹش پارلیمنٹ کے اندر اس پالیسی پروگرام پر مزید گرما گرم بحث متوقع ہے۔