World
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ کے ساتھ تنازع پر مذاکرات کا مطالبہ
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران خطے میں جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ اپنانے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ تنازع کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے مگر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران اس خطے میں جنگ پھیلانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور تمام تنازعات کا پرامن اور سفارتی حل تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی صدر نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی طرف سے وعدہ خلافیوں اور دباؤ کے باوجود تہران معاہدے اور بات چیت کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال یا امریکی اقدامات تہران کے قومی مفادات کے ہرگز خلاف ہیں اور ایران خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے۔
حالیہ دنوں میں خطے کے اندر ہونے والی جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد عالمی سطح پر خدشات بڑھ گئے تھے کہ کشیدگی مزید خطرناک موڑ اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم، صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ بیانات نے واضح کیا ہے کہ ایران کی اولین ترجیح عسکری تصادم نہیں بلکہ سفارت کاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی جانب سے مذاکرات کی اس پیشکش کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ تنازع کو بڑھانا نہیں چاہتا بلکہ فریقین کے درمیان منصفانہ سمجھوتہ چاہتا ہے۔
اس کے باوجود، ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر تہران پر کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت مسلط کی گئی یا کسی بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا، تو ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے بھرپور اور دندان شکن جواب دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور دنیا بھر کےمفکرین اس بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔