World
امریکی پابندیوں اور معاشی بحران میں گھری ایران کی معیشت
امریکہ کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیوں کی مہم کے نتیجے میں ایران کی معیشت شدید ترین بحران میں گھر گئی ہے۔ ایرانی صدر نے بھی ملک کو درپیش گہرے معاشی مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے تہران کے خلاف نئی اور سخت ترین اقتصادی پابندیوں کی مہم کے آغاز کے بعد سے ایران کی معیشت کو شدید ترین بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئی پابندیوں کی لہر نے ایرانی معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور ملک میں مہنگائی اور مالیاتی دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کو اندرونی سطح پر بھی شدید مالی چیلنجز کا سامنا ہے جو عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ اور مختلف پالیسی تھنک ٹینکس کی رپورٹس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا تاکہ حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی لائی جا سکے۔ اس مہم کے تحت تہران کے مالیاتی نیٹ ورکس اور اہم تجارتی شعبوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے ایرانی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حاصبہ حکمت عملی کا مقصد ایرانی حکومت کی مالی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
ان دباؤ کی لہروں کے درمیان خود ایرانی صدر نے بھی ملکی معیشت کی خراب حالت اور سنگین مسائل کا برملا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں حکومت کو متعدد اور پیچیدہ معاشی مشکلات کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایرانی قیادت اندرونی سطح پر اصلاحات اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کر رہی ہے تاہم ماہرین کے مطابق پابندیوں کے اس نئے دور نے تہران کے لیے مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔