Business
مصنوعی ذہانت اور عالمی معیشت کو لاحق خطرات پر انتباہ
بین الاقوامی مالیاتی واچ ڈاگ نے خبردار کیا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت عالمی معاشی نظام کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ بینک آف انگلینڈ کے سربراہ نے جی ٹوئنٹی وزرائے خزانہ کو اس ٹیکنالوجی سے جڑے مالیاتی اور سائبر خطرات سے آگاہ کیا۔
بین الاقوامی مالیاتی نظام کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر، بینک آف انگلینڈ کے سربراہ اور فنانشل سٹیبلٹی بورڈ کے چیئرمین اینڈریو بیلی نے جی ٹوئنٹی ممالک کو شدید تنبیہ جاری کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ جدید اور ایڈوانسڈ مصنوعی ذہانت کے بے لگام استعمال سے عالمی معاشی زوال کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس سے دنیا بھر کے مالیاتی ادارے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ انتباہ اگست 2026 میں جی ٹوئنٹی کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے نام لکھے گئے خط میں سامنے آیا ہے۔
فنانشل سٹیبلٹی بورڈ (FSB) کے مطابق، مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر خطرات اس وقت عالمی مالیاتی استحکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ واچ ڈاگ کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہوتی ہوئی ترقی جہاں ایک طرف کاروباری آسانیوں کا سبب بن رہی ہے، وہیں دوسری طرف اس کے غیر متوقع منفی اثرات پوری دنیا کے مالیاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اے آئی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سکیورٹی مسائل عالمی معیشت کو کساد بازاری میں دھکیل سکتے ہیں۔
جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام ممالک کو مل کر ایک ایسا مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے جو مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نبرد آزما ہو سکے۔ مالیاتی ریگولیٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر کڑی نگرانی اور سکیورٹی پروٹوکولز کو سخت کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکے۔ اینڈریو بیلی کی اس تنبیہ کے بعد دنیا بھر کے معاشی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس ٹیکنالوجی کے ضابطہ کار پر سنجیدگی سے بحث شروع ہو گئی ہے۔