LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ، وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیر جاری

News Image
امریکی سپریم کورٹ نے وائٹ ہاؤس میں چار سو ملین ڈالر مالیت کے نئے بال روم کی تعمیر پر عائد عارضی پابندی ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کے احاطے میں جاری تعمیراتی کام بلا تعطل جاری رہ سکے گا۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے وائٹ ہاؤس میں تعمیر کیے جانے والے چار سو ملین ڈالر مالیت کے نئے بال روم کی تعمیر پر کام جاری رکھنے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ تازہ ترین فیصلہ اس ماہ کے شروع میں جاری کیے جانے والے اس عارضی حکم کی جگہ لے گا جس کے تحت اس متنازع منصوبے پر عارضی طور پر کام روک دیا گیا تھا۔ اس عدولی کے خاتمے کے بعد اب انتظامیہ کے لیے اس بڑے تعمیراتی منصوبے کو آگے بڑھانے میں کوئی قانونی رکاوٹ حائل نہیں رہی ہے۔ اس منصوبے کا تخمینہ چار سو ملین ڈالر لگایا گیا ہے جس کا مقصد وائٹ ہاؤس کی عمارت میں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے بڑے سرکاری عشائیوں، تقاریب اور مہمانوں کے استقبال کے لیے ایک جدید اور وسیع ہال کی فراہمی ہے۔ اس تعمیراتی منصوبے کے مخالفین اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس کی شفافیت اور ضرورت پر سوالات اٹھائے گئے تھے، جس کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچا تھا۔ ابتدائی طور پر عدالت نے اس معاملے پر عارضی حکم جاری کرتے ہوئے کام کو معطل رکھا تھا تاکہ مزید قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے، تاہم اب سپریم کورٹ کے تازہ ترین حکم نے تمام تاویلات کو رد کرتے ہوئے تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ تعمیراتی کمپنیوں اور متعلقہ حکام کو بھی کام دوبارہ شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بال روم امریکہ کی صدارتی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی اور اضافی سہولت ثابت ہوگا، جس کی تکمیل میں اب مزید تاخیر کا اندیشہ نہیں ہے۔ دوسری جانب، ناقدین کا ماننا ہے کہ اس بھاری بھرکم بجٹ کے منصوبے پر عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا استعمال ایک بحث طلب موضوع بنا رہے گا، تاہم عدلیہ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اب یہ پروجیکٹ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔