LIVE
Loading Breaking News...

پولینڈ ڈرون فیکٹری آتشزدگی: دہشت گردی اور روسی تخریب کاری کا شبہ

News Image
پولینڈ کے حکام نے ڈرون فیکٹری میں لگنے والی آگ کے معاملے پر باضابطہ طور پر دہشت گردی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس واقعے کے پیچھے روسی تخریب کاری اور غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے ملوث ہونے کے شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پولینڈ کے دارالحکومت اور دیگر متعلقہ حکام نے ایک اہم ڈرون فیکٹری میں پیش آنے والے پُراسرار آتشزدگی کے واقعے کے بعد باضابطہ طور پر دہشت گردی کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب ابتدائی شواہد اور صورتحال کی بنیاد پر یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے ممکنہ طور پر روسی تخریب کاری یا کسی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ حکام اس بات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حادثہ تھا یا کسی منظم سازش کا حصہ۔ حالیہ کچھ مہینوں کے دوران، یورپی ممالک میں سکیورٹی کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، بالخصوص یوکرین تنازع کے تناظر میں روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ پولینڈ، جو کہ یوکرین کا پڑوسی ملک ہونے کے ناطے مغربی امداد کی ترسیل کا ایک بڑا مرکز ہے، اس طرح کے خطرات کے حوالے سے پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہے۔ ڈرون فیکٹری میں لگنے والی آگ نے ملکی سلامتی کے اداروں کو ایک بار پھر چوکس کر دیا ہے اور تحقیقاتی ٹیمیں ہر ممکن زاویے سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، فیکٹری کے اندرونی حصوں کو خاصا نقصان پہنچا ہے اور فرانزک ماہرین اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آگ لگانے کے لیے کون سے آلات یا کیمیکلز استعمال کیے گئے۔ پولش سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تہہ تک پہنچا جائے گا تاکہ آئندہ اس قسم کے اہم دفاعی اور صنعتی تنصیبات کو کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے سے محفوظ بنایا جا سکے، اور اگر اس میں کسی غیر ملکی ہاتھ کی تصدیق ہوتی ہے تو اس کا سفارتی اور قانونی سطح پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔