World
مقبوضہ فلسطین میں گھروں کی مسماری اور نئے اسرائیلی آؤٹ پوسٹس کی توسیع
قابض اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ نابلس میں فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کر دیا ہے جبکہ الخلیل کے قریب یہودی آباد کاروں نے ایک نئے آؤٹ پوسٹ کے لیے زمین صاف کر دی ہے۔ اس کارروائی سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے جہاں قابض اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے نابلس کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے فلسطینیوں کے رہائشی مکانات کو منہدم کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں متعدد فلسطینی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں اور انہیں شدید سردی اور کڑے حالات میں کھلے آسمان تلے یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عمل کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب الخلیل کے نواحی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آباد کاروں نے ایک نئے غیر قانونی آؤٹ پوسٹ کے قیام کے لیے زرعی اور رہائشی زمینوں کو زبردستی صاف کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات کا مقصد علاقے میں بستیوں کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور مقامی فلسطینی آبادی کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنا ہے۔ ان تازہ ترین واقعات نے مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود تناؤ کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مقامی فلسطینیوں اور عالمی برادری کی جانب سے ان کارروائیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق میں کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی اور روزمرہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔