World
لبنان کا یونان سے اسرائیل معاہدے پر عمل درآمد میں مدد کا مطالبہ
لبنان نے یونان سے درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے میں تعاون کرے۔ یہ سفارتی اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب یونان کا اسرائیل کے ساتھ ایک اہم دفاعی ہتھیاروں کا معاہدہ طے پایا ہے۔
لبنان نے یونان سے باضابطہ طور پر یہ درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور اسے آگے بڑھانے میں بھرپور مدد فراہم کرے۔ یہ اہم سفارتی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اطلاعات کے مطابق یونان اور اسرائیل کے درمیان ایک بڑے دفاعی ہتھیاروں کا معاہدہ طے پایا ہے۔ لبنانی قیادت چاہتی ہے کہ یونان خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور طے شدہ نکات پر عمل درآمد کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔
امریکہ کی ثالثی میں تیار کیے جانے والے اس فریم ورک معاہدے کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے مابین دیرینہ تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ لبنانی حکام کا ماننا ہے کہ یورپی یونین بالخصوص یونان جیسے حلیف ممالک اس عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یونان کے ساتھ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے، بیروت کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ایتھنز کو اس سفارتی عمل کا حصہ بنایا جائے تاکہ معاہدے کی شرائط پر من و عن عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
اسرائیل اور یونان کے درمیان حالیہ ہتھیاروں کے معاہدے نے مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں دفاعی اور تزویراتی حرکیات کو نیا رخ دیا ہے۔ لبنان اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے عالمی اور علاقائی طاقتوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ سرحدی اور سموری تنازعات کے پرامن حل کے لیے دباؤ برقرار رکھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، لبنان کی یہ اپیل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ سفارتی تنہائی سے نکلنے اور خطے کے اہم ملکوں کے ذریعے اپنے تحفظات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس سفارتی پیش رفت کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا انحصار یونان کے ردعمل اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر ہوگا۔ تاہم، لبنان کی طرف سے یونان سے یہ مدد طلب کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بیروت حکومت امریکہ کے زیرِ اثر بننے والے فریم ورک معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راہیں تلاش کرنے میں سنجیدہ ہے۔ فریقین کی جانب سے اس معاملے پر مزید بات چیت متوقع ہے تاکہ علاقائی استحکام کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔