World
اسرائیلی وزیر بن گویر کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا اور اشتعال انگیز کارروائی
اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کے وزیر ایتامار بن گویر نے سکیورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اشتعال انگیز دورہ کیا۔ اس اقدام کو طویل عرصے سے چلے آ رہے تاریخی اور قانونی پس منظر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
قابض اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے ایک اور انتہائی متنازعہ اقدام کے تحت، وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے درجنوں صیہونی آباد کاروں کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بول دیا۔ اس اشتعال انگیز کارروائی کے دوران اسرائیلی وزیر نے سخت سکیورٹی حصار میں مسجد کے احاطے کا چکر لگایا اور وہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی کی کوشش کی، جو بین الاقوامی قوانین اور پرانے سمجھوتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام کے حوالے سے ایک طویل مدتی 'اسٹیٹس کو' یعنی طے شدہ اصول چلا آ رہا ہے، جس کے تحت صرف مسلمانوں کو اس احاطے میں عبادت کرنے کی اجازت ہے جبکہ غیر مسلم صرف زائرین کی حیثیت سے آ سکتے ہیں۔ تاہم، بن گویر جیسے انتہا پسند اسرائیلی رہنما بارہا اس سمجھوتر کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وہاں اشتعال انگیز بیانات دیتے رہے ہیں اور فلسطینیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
اس واقعے کے بعد مسلم دنیا اور بالخصوص فلسطینی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اور حماس سمیت مختلف تنظیموں نے اس اقدام کو مسجد اقصیٰ کی حرمت پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس قسم کی کارروائیوں کا نوٹس لے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات مقبوضہ علاقوں میں مزید خون خرابے اور کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے انتہائی حساس اور عقیدت کا مرکز ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس دورے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں اس طرح کی اشتعال انگیز کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ اسرائیلی کابینہ کے وزراء جان بوجھ کر حالات کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے میں مستقل امن کے کسی بھی امکان کو ختم کیا جا سکے۔ فلسطینی عوام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ قبلہ اول کے دفاع کے لیے ہیکمم مکمل طور پر تیار ہیں اور اس طرح کے ہتھکنڈے ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔