LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر بن گویر کا مسجد الاقصیٰ کا طوفانی دورہ اور اشتعال انگیزی

News Image
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کا دورہ کیا اور وہاں اشتعال انگیز کارروائیاں کیں۔ یہ واقعہ اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام پر اسرائیلی فورسز کی سخت سکیورٹی میں پیش آیا۔
مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر نے قابض فورسز کی بھاری سکیورٹی میں اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد الاقصیٰ کا اشتعال انگیز دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکار بھی موجود تھے جنہوں نے احاطے کے اندر اشتعال انگیز کارروائیاں کیں۔ اس قسم کے اقدامات کو فلسطینی عوام اور مسلم دنیا کے جذبات کو مجروح کرنے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس دورے کے دوران اسرائیلی قابض فورسز نے مسجد الاقصیٰ کے ارد گرد سخت سکیورٹی کے انتظامات کر رکھے تھے اور عام فلسطینیوں کے داخلے پر کڑی پابندیاں عائد کی گئی تھیں تاکہ اس متنازعہ داخلے کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود تناؤ اور عدم استحکام میں مزید شدت آ گئی ہے، جس پر بین الاقوامی برادری اور مختلف اسلامی ممالک کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مسجد الاقصیٰ کے تقدس کو پامال کرنے والے اس واقعے پر فلسطینی رہنماؤں اور مختلف تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے میں مذہبی منافرت پھیلانے اور حالات کو مزید خراب کرنے کا مذموم ذریعہ ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے ایسے وزراء کی سرپرستی میں ہونے والی یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور تاریخی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جن کا مقصد زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنا ہے۔