Politics
امریکی انتخابات: فوج تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، اعلیٰ جنرل کا بیان
امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی جنرل نے واضح کیا ہے کہ نومبر کے صدارتی انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشنز پر فوج تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ بیان ڈیموکریٹک رہنماؤں کی جانب سے انتخابات میں ممکنہ فوجی مداخلت کے خدشات کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی جنرل نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نومبر میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر پولنگ کے عمل کی نگرانی یا سکیورٹی کے لیے فوج کو تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ اہم بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ڈیموکریٹک رہنماؤں کی طرف سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ سیاسی مقاصد کے لیے یا انتخابی عمل میں اثر انداز ہونے کے لیے فوج کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان خدشات نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی، جس پر فوجی حکام کو فوری طور پر وضاحت دینا پڑی۔
امریکہ میں فوج کو ملکی سیاست اور بالخصوص انتخابی عمل سے ہمیشہ دور رکھا جاتا ہے اور امریکی آئین و روایات کے مطابق سول معاملات میں فوج کی مداخلت کو انتہائی ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اعلیٰ عسکری قیادت نے ان تمام قیاس آرائیوں اور خدشات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ فوج کا بنیادی کام ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے اور اس کا انتخابی عمل یا پولنگ کے دن کے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق امریکہ میں صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ جاتا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان بیان بازی میں تیزی آ جاتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ قانون سازوں کا یہ ماننا تھا کہ انتخابات کے دوران ممکنہ بدامن یا تنازعات سے نمٹنے کے نام پر فوج کو سڑکوں پر لایا جا سکتا ہے، جس سے ووٹرز خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم، عسکری ترجمان کی جانب سے تازہ ترین یقین دہانی کے بعد ان خدشات کو کسی حد تک تسلی بخش جواب مل گیا ہے اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر سول اداروں اور انتظامیہ کی ذمہ داری رہے گا۔