LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب میں دہشت گردی کے مقدمات کا خفیہ اور فیس لیس ٹرائل

News Image
صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل منظور کر لیا گیا ہے جس کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں فیس لیس اور خفیہ ٹرائل کی تجاویز دی گئی ہیں۔ اس متنازع قانون سازی پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔
صوبہ پنجاب کی حکومت نے دہشت گردی کے سنگین مقدمات سے نمٹنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل دو ہزار چھبیس متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث ملزمان اور گواہوں کے لیے فیس لیس اور خفیہ ٹرائل کی تجاویز پیش کی گئی ہیں تاکہ عدالتی کارروائی کو محفوظ بنایا جا سکے اور گواہوں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ یہ قانون موجودہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے تاہم اس کی شقوں پر قانونی حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ قانون سازی کے اس عمل کے دوران صوبائی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن اراکین نے اس بل کو بنیادی انسانی حقوق اور شفاف ٹرائل کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے خفیہ ٹرائلز سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے اور عدالتی نظام میں شفافیت کو نقصان پہنچے گا جس سے معاشرے میں مزید بے یقینی پھیلے گی۔ دوسری جانب اسمبلی کے اسپیکر نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اور ہنگامہ آرائی کے بعد صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اس متنازع بل پر مزید غور کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور ریاست کے اداروں کو تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔ اس بل کے حتمی نفاذ اور اس کے ممکنہ اثرات پر ملک بھر میں قانونی ماہرین، سول سوسائٹی اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان بحث و مباحثہ جاری ہے کہ آیا یہ قانون انصاف کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا یا اس سے آئینی حقوق سلب ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔