LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور وینزویلا کا تیل معاہدہ، چینی اور روسی کمپنیاں بے دخل

News Image
امریکہ اور وینزویلا کے درمیان طے پانے والے ایک تاریخی معاہدے کے تحت امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے فیلڈز کا انتظام سنبھالیں گی۔ ان فیلڈز میں سے کچھ پر پہلے چینی اور روسی کمپنیاں کام کر رہی تھیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ایک بڑی تیل کمپنی نے وینزویلا کے ان تیل کے فیلڈز کا کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس سے قبل چینی اور روسی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تھے۔ یہ قدم خطے میں توانائی کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ واشنگٹن اور کراکس کے درمیان اس نئی پیش رفت کو ایک تاریخی معاہدے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے تحت امریکہ کو وینزویلا کے وسیع و عریض تیل کے ذخائر تک براہِ راست رسائی اور کنٹرول مل گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے پس پردہ وسیع تر حکمت عملی کام کر رہی ہے جس کے تحت پینٹاگون کو بھی وینزویلا کی تیل کی دولت میں مخصوص حصہ دینے کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں ایک ہلچل مچا دی ہے کیونکہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں جن میں سے ایک بڑی مقدار اربوں بیرل پر مشتمل ہے۔ ماضی میں ان ذخائر سے فائدہ اٹھانے والی چینی اور روسی کمپنیوں کو اب امریکی فرمز کی طرف سے بے دخلی یا کنٹرول کی منتقلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی قانون دانوں، توانائی کے ماہرین اور مبصرین نے اس اچانک اور ڈرامائی معاہدے پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے پیچیدہ بین الاقوامی معاہدوں میں شفافیت کا فقدان ہے اور کنٹریکٹس کی شرائط و ضوابط پر مزید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں مکمل طور پر درست ہے یا اس کے طویل المدتی معاشی اور سیاسی اثرات خطے کے استحکام پر کس طرح مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب، وینزویلا کی اندرونی سیاست اور شخصیات کے گرد بھی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ سوئس حکام کی جانب سے ایک وینزویلا کے تیل کے تاجر کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے باوجود واشنگٹن کی ترجیحات بالکل مختلف نظر آتی ہیں، جن کا مقصد وینزویلا کے تیل کے شعبے پر مکمل گرفت مضبوط کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے عملی نفاذ سے عالمی تیل کی منڈی اور بالخصوص امریکہ، چین اور روس کے باہمی تعلقات پر گہرے اثرات پڑنے کا امکان ہے۔