LIVE
Loading Breaking News...

امریکا ایران کشیدگی: تیل مہنگا، اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

News Image
امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے نئے سلسلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کشیدگی کے باعث بانڈز کی پیداوار اوپر چلی گئی جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر فوجی حملے شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس نئی भू-سیاسی کشیدگی کے اثرات براہ راست عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر مرتب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے شدت اختیار کرنے سے رسد کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے معاشی اثرات صرف تیل تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاؤ جونز انڈیکس میں تین سو ستر پوائنٹس سے زائد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، تاہم ماہانہ بنیادوں پر مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے انڈیکس نے مسلسل پانچواں مثبت مہینہ اپنے نام کیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کرنے کی وجہ سے سرکاری بانڈز کی پیداوار (Yields) میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی کساد بازاری کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان یہ فوجی تصادم طویل ہوتا ہے تو عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے افراطِ زر میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے بین الاقوامی فضائی اور زمینی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جس کے اثرات عام صارف تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ کاروباری ہفتے کے اختتام پر سرمایہ کار انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور وہ اس خطے میں ہونے والی ہر نئی فوجی و سیاسی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے عہدیداروں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا دار و مدار مکمل طور پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے کم یا زیادہ ہونے پر منحصر ہوگا۔