Business
جاپانی اسٹاک مارکیٹ ستمبر ٹریڈنگ اور نکی انڈیکس کی صورتحال
جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں ستمبر کے آغاز پر نکی انڈیکس چھیاسٹھ ہزار کی سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ سرمایہ کار امریکی مارکیٹوں کے منفی رجحان اور فیڈرل ریزرو کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی شرح سود اور سرمائے کی لاگت میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں محتاط رویہ پایا جاتا ہے۔
جاپانی حصص بازار میں ستمبر کے مہینے کا آغاز ملا جلا رجحان اور شدید اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں بالخصوص امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ اور امریکی فیڈرل ریزرو کے ہاکش یا سخت مانیٹری پالیسی کے بیانات کے بعد جاپانی نکی انڈیکس چھیاسٹھ ہزار کے قریب ٹریڈ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں کہ آیا حالیہ ہفتوں میں دکھائی دینے والی تیزی اور ریکوری کا مومنٹم برقرار رہ سکے گا یا عالمی دباؤ مارکیٹ پر حاوی رہے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جاپانی مارکیٹ کو اس وقت متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی شرح سود نے سرمائے کے حصول کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا رجحان اب روایتی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر سیکٹر سے ہٹ کر ریجنل بینکوں اور وسائل سے وابستہ حصص کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں مارکیٹ کے مختلف سیکٹرز میں نئی حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
امریکہ کے تینوں بڑے انڈیکسز میں حالیہ کمی کے اثرات ایشیائی مارکیٹوں پر بھی براہ راست مرتب ہوئے ہیں۔ جاپان میں بھی شیئرز کی قیمتوں میں کمی اور دباؤ دیکھا گیا ہے تاہم بازار کے بعض حصوں میں خریداری کا رحجان بھی کسی حد تک موجود رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی اشاریے اور مرکزی بینکوں کے آئندہ فیصلے ہی جاپانی اسٹاک مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے اور سرمایہ کار اس وقت انتہائی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔