World
شہزادہ ہری اور ولیم کی ممکنہ ملاقات اور شاہی تنازع
شہزادہ ہری کی برطانیہ واپسی کے بعد شاہی خاندان میں اختلافات ایک بار پھر سرخیوں میں آ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شہزادہ ولیم اپنے بھائی کو خاموش رہنے کی پالیسی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
برطانوی شاہی خاندان کے دو اہم چشم و چراغ شہزادہ ہری اور شہزادہ ولیم کے درمیان تعلقات میں تناؤ ایک بار پھر دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ شہزادہ ہری کی برطانیہ واپسی کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کیا دونوں بھائی طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر آمنے سامنے آئیں گے یا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ ملاقات کے حوالے سے شاہی محل میں گہما گہمی پائی جاتی ہے، تاہم صورتحال تاحال کشیدہ بنی ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہزادہ ولیم اپنے بھائی کے حالیہ فیصلوں اور اقدامات کی وجہ سے شدید صدمے اور مایوسی کا شکار ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہری اور میگن مارکل کے اقدامات نے شاہی خاندان کی پرسکون فضا کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ شہزادہ ولیم اس ملاقات کے دوران اپنے بھائی کے ساتھ سرد مہری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب شاہی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہری کی واپسی نے کنگ چارلس اور ملکہ کمیلا سمیت پورے شاہی خاندان کو ایک عجیب کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ کچھ با اثر شخصیات اس تنازع کو حل کرنے میں مصالحتی کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن ولیم کے سخت رویے کی وجہ سے فوری طور پر کسی بڑے مصالحتی اقدام کی امید کم ہی نظر آتی ہے۔ ہری اور ولیم کا یہ خاندانی تنازع اب برطانوی معاشرے اور میڈیا میں بحث کا ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔
اس صورتحال میں شاہی مداحوں اور تجزیہ کاروں کی نظریں شہزادہ ہری کے اگلے اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دونوں بھائی ماضی کے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کسی صلح کی طرف بڑھتے ہیں یا پھر خاندانی خلیج مزید گہری ہو جاتی ہے۔ شاہی خاندان کے اندرونی ذرائع کے مطابق آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں تمام فریقین کے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ ہوگا۔