LIVE
Loading Breaking News...

بورنیو جنگلات کی آگ اور اورنگ اوٹن کی بقا کا خطرہ

News Image
انڈونیشیا کے جنگلات میں لگنے والی شدید آگ نے سینکڑوں نایاب اورنگ اوٹن کا قدرتی مسکن تباہ کر دیا ہے۔ اس ماحولیاتی بحران کی وجہ سے اس خطرے سے دوچار نسل کی بقا کو لے کر ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو کے جنگلات میں بھڑک اٹھنے والی ہولناک آگ نے سینکڑوں نایاب اورنگ اوٹن کے قدرتی مسکن کو ملیہ میٹ کر دیا ہے، جس کے بعد اس قیمتی جنگلی حیات کی بقا کو انتہائی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو اس پرجاتی کا نام و نشان مٹ سکتا ہے۔ آگ کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ رقبے پر پھیلا سرسبز و شاداب علاقہ راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے، جس سے جانوروں کے لیے خوراک اور پناہ گاہوں کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ محکمہ جنگلات اور مقامی امدادی ٹیمیں اس خطرناک آگ پر قابو پانے کے لیے دن رات جدوجہد کر رہی ہیں، تاہم تیز ہواؤں اور خشک موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آگ کے دھوئیں اور زہریلی گیسوں نے قریبی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے انسانی آبادیوں کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اورنگ اوٹن پہلے ہی دنیا بھر میں معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں کی فہرست میں شامل ہیں، اور اس قسم کے حادثات ان کی آبادی کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین حیوانات کا کہنا ہے کہ اس قدرتی مسکن کی تباہی کے اثرات طویل المدتی ہوں گے کیونکہ جنگلات کی بحالی میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ عالمی تنظیموں اور مقامی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جنگلات میں لگنے والی اس آگ پر فوری قابو پانے کے لیے جدید ترین وسائل کا استعمال کریں اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کو مزید تیز کریں۔ اس سانحے نے دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور جنگلات کی حفاظت کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن پر فوری توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔