LIVE
Loading Breaking News...

ہولی کراس اسکول تنازع، فادر ایڈن ٹرائے کا بیان

News Image
فادر ایڈن ٹرائے کا کہنا ہے کہ نارتھ بیلفاسٹ میں دو ہزار ایک کے دوران ہولی کراس اسکول کے بچوں کو جس کرب اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا وہ نفرت کی بدترین مثال تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماضی کا یہ تلخ تجربہ اور تکلیف دہ صورتحال ایک بار پھر دہرائی جا سکتی ہے۔
نارتھ بیلفاسٹ میں سنہ دو ہزار ایک کے دوران پیش آنے والے ہولی کراس پرائمری اسکول کے تنازع کے مرکزی کردار فادر ایڈن ٹرائے نے کہا ہے کہ اسکول کی معصوم بچیوں اور والدین کو جس شدید کرب اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا، وہ انسانی تاریخ میں نفرت کی بدترین شکل تھی۔ اس وقت اسکول جانے والی چھوٹی بچیوں کو پرتشدد مظاہروں اور سیکورٹی کے سخت حصار کے درمیان سے گزرنا پڑتا تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس دلخراش واقعے کے دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فادر ایڈن ٹرائے نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے تنازعات اور معاشرتی خلیج کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو تکلیف دہ صورتحال پیدا کی گئی تھی، وہ تمام تر حالات آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں اور یہ اندیشہ موجود ہے کہ اس قسم کا ہولناک واقعہ مستقبل میں دوبارہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے ایک بار پھر اس خطے میں مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے جاری مباحثوں کو گرما دیا ہے۔ تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو ہولی کراس اسکول کے باہر کا وہ احتجاج شمالی آئرلینڈ کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک مانا جاتا ہے، جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی نے معصوم بچوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ فادر ایڈن ٹرائے نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور نفرت کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو اس قسم کے تعصبات سے محفوظ رکھا جا سکے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے روکا جا سکے۔