World
تیونس: صدر قیس سعید کے اقتدار کے پانچ سال اور معاشی بحران
صدر قیس سعید کے اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد تیونس میں معاشی مشکلات اور عوامی شکایات بدستور برقرار ہیں۔ اس عرصے کے دوران حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے سیاسی اختلاف رائے اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے جگہ مزید تنگ ہو چکی ہے۔
تیونس کے صدر قیس سعید کی جانب سے اقتدار پر مکمل گرفت مضبوط کیے جانے اور آئینی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کو پانچ سال بیت چکے ہیں، لیکن ملک میں عوام کے پرانے معاشی اور معاشرتی مسائل اب ایک بار پھر شدید صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہیگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے، اور عوام کی طرف سے معاشی بہتری کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو امیدیں سیاسی تبدیلی کے ساتھ وابستہ کی گئی تھیں، وہ اب دھندلا رہی ہیں اور عوام میں روز بروز بے چینی بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب اس پانچ سالہ دور اقتدار میں سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے یہ شکایت بھی شدت سے کی جا رہی ہے کہ اختلافِ رائے کے لیے فضا انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ ناقدین، صحافیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کو حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور سیاسی آزادیوں کا دائرہ روز بروز سکڑتا جا رہا ہے۔ شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ معاشی بحران کے ساتھ ساتھ جمہوری اور شہری آزادیوں کا سلب ہونا تیونس کے مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے ملکی استحکام اور اصلاحات کے دعوے مسلسل کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عوام کی بنیادی مشکلات جوں کی توں ہیں۔ آنے والے دنوں میں تیونس کی سیاسی اور معاشی سمت کا دارالحکومت ان اندرونی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا، جو ملک کے طول و عرض میں مسلسل سر اٹھا رہے ہیں۔