LIVE
Loading Breaking News...

امریکی آرمی سیکرٹری ڈینیئل ڈرِسکل کا استعفیٰ، وزارت دفاع میں تناؤ

News Image
امریکی میڈیا کے مطابق آرمی سیکرٹری ڈینیئل ڈرِسکل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ جمع کرا دیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی آرمی سیکرٹری ڈینیئل ڈرِسکل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ یہ اہم سیاسی اور عسکری تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دفاعی امور سے متعلق حکام کے درمیان پالیسیوں پر اختلاف رائے کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ ڈینیئل ڈرِسکل کے اس فیصلے کو واشنگٹن کے سیاسی و عسکری حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ فوج اور وزارت دفاع کے اعلیٰ ترین سطح پر ہم آہنگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ڈینیئل ڈرِسکل کا استعفیٰ اچانک نہیں آیا بلکہ اس کے پیچھے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری تناؤ اور اختلافات کارفرما تھے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان عسکری امور، انتظامی فیصلوں اور دفاعی بجٹ کے حوالے سے مبینہ طور پر اختلافات پائے جاتے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ گہرے ہوتے چلے گئے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے محکمہ دفاع کے اندرونی معاملات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے تھے، جس کا بالآخر نتیجہ آرمی سیکرٹری کے استعفیٰ کی صورت میں نکلا ہے۔ ابھی تک امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس استعفیٰ کے حوالے سے کوئی باضابطہ اور تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کار اسے موجودہ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کے بعد آنے والے دنوں میں امریکی فوج کی قیادت اور دفاعی پالیسیوں میں مزید تبدیلیوں کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ڈینیئل ڈرِسکل کے استعفیٰ کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی صدر اور وزیر دفاع اس خالی ہونے والے اہم عہدے پر کس شخصیت کا انتخاب کرتے ہیں اور آئندہ کی دفاعی حکمت عملی کیا ہوگی۔