World
مقبوضہ مغربی کنارے میں صحافیوں اور فلسطینیوں پر حملے
مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے دوران صہیونی حملوں میں فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کا عملہ بھی نشانہ بن گیا۔ بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور صحافیوں کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جہاں صہیونی گروہوں اور سکیورٹی فورسز کے تشدد کا نشانہ نہ صرف عام فلسطینی بن رہے ہیں بلکہ عالمی میڈیا کے نمائندے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں کے دوران فلسطینی شہریوں کے ساتھ ساتھ معروف امریکی نشریاتی ادارے این بی سی (NBC) کی ایک نیوز ٹیم کو بھی براہ راست حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب صحافی علاقے میں جاری کشیدگی اور مظ مظاہروں کی کوریج کر رہے تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے صحافیوں کے سامان کو نقصان پہنچایا اور انہیں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے زبردستی روکا۔ اس واقعے سے مقبوضہ علاقوں میں صحافیوں کی سلامتی کی سنگین صورتحال ایک بار پھر دنیا کے سامنے عیاں ہو گئی ہے۔ عالمی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا کے نمائندوں کو تنازع کے علاقوں میں تحفظ فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب فلسطینیوں کے خلاف جاری ان پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا دراصل سچائی کو دبانے کی ایک دانستہ کوشش ہے تاکہ مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے مبینہ مظالم کی تصاویر اور خبریں دنیا تک نہ پہنچ سکیں۔ بین الاقوامی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔