LIVE
Loading Breaking News...

بھارت پٹاخہ فیکٹری دھماکا: آٹھ بچوں سمیت ہلاکتیں

News Image
بھارت کی ایک پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والے تباہ کن دھماکے کے نتیجے میں آٹھ بچوں سمیت کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔ جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ قریبی عمارتیں بھی ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔
بھارت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک پٹاخہ فیکٹری میں پیش آنے والے المناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ اندوہناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اس سال اسی نوعیت کا یہ تیسرا دھماکا ہے، جس نے فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات اور حکومتی نگرانی پر ایک بار پھر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کے اثرات قریبی علاقوں تک محسوس کیے گئے اور آس پاس موجود رہائشی مکانات مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے۔ واقعے کی فوٹیج اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے بعد تباہ شدہ مکانات کا ملبہ دور دور تک بکھرا ہوا ہے اور فیکٹری کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اداروں کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جہاں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کا خدشہ ہے کہ ملبے کے نیچے مزید افراد بھی دبے ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فیکٹری میں بڑے پیمانے پر آتش گیر مواد اور پٹاخے غیر قانونی طریقے سے ذخیرہ کیے گئے تھے جو کسی چنگاری کی وجہ سے اچانک زور دار دھماکے سے پھٹ گئے۔ اس افسوسناک حادثے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جنہوں نے فیکٹری مالکان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے بھی اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بچوں سے مشقت کروانے اور حفاظتی اصولوں کو پامال کرنے والے عناصر کے خلاف موثر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمے داران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں تاکہ اس سانحے کے متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے