LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا سینٹرز کی حمایت: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم بیان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بجلی اور پانی کے استعمال سے متعلق خدشات کے باوجود کمیونٹیز پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیٹا سینٹرز کو خوش آمدید کہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکہ کو اس شعبے میں برتری برقرار رکھنے کے لیے ڈیٹا کی حکمرانی کو اپنانا ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ملک بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور توسیع کی مخالفت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو ڈیجیٹل اور تکنیکی میدان میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے ڈیٹا کو ترجیح دینا ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف مقامی کمیونٹیز اور ماحول دوست تنظیموں کی جانب سے ان مراکز کے قیام پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے بجلی اور پانی کے وسائل پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے، جس سے مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم، امریکی صدر نے ان تمام خدشات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آگے رہنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر ناگزیر ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر امریکہ نے اس شعبے میں سست روی دکھائی تو وہ عالمی سطح پر اپنی معاشی اور تکنیکی مسابقت کھو بیٹھے گا۔ صدر ٹرمپ نے ملک کے تمام متعلقہ اداروں اور مقامی برادریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان جدید مراکز کے قیام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے تعاون کریں تاکہ ملک کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جا सके۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی مانگ میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں بھی بڑی ٹیک کمپنیاں اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، لیکن بجلی کی خطیر کھپت اور ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے وفاقی اور مقامی سطح پر کشمکش جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس تازہ بیان کے بعد اس بحث میں مزید شدت آنے کا امکان ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔