LIVE
Loading Breaking News...

سونی اور وارنر میوزک کا اے آئی کمپنی اینتھروپک پر مقدمہ

News Image
نامور میوزک کمپنیوں سونی اور وارنر نے اے آئی کمپنی اینتھروپک کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے گیتوں کے بول چوری کیے۔
عالمی شہرت یافتہ میوزک کمپنیوں سونی (Sony) اور وارنر میوزک (Warner Music) نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے کی نامور کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے آئی کمپنی نے اپنے لینگویج ماڈلز کی تربیت کے دوران کاپی رائٹ قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور بغیر اجازت ہزاروں گیتوں کے بول استعمال کیے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف فنکاروں کے حقوق پامال ہوئے ہیں بلکہ میوزک انڈسٹری کے مالی مفادات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق، اینتھروپک نے جن فنکاروں اور گلوکاروں کے گیتوں کے بول بغیر اجازت استعمال کیے ہیں ان میں دنیا کی مایہ ناز شخصیات شامل ہیں۔ فہرست میں دی بیٹلز، ٹیلر سوئفٹ، اور مائیکل جیکسن سمیت کئی دیگر عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کے گیت شامل ہیں۔ سونی اور وارنر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ کمپنی نے ڈیجیٹل مواد کو غیر قانونی طور پر کاپی کیا اور اپنے کمرشل اے آئی سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے اسے بطور ڈیٹا استعمال کیا۔ یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوری دنیا میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں اور کریٹیو انڈسٹریز کے درمیان کاپی رائٹ اور ملکیت کے حوالے سے کشمکش جاری ہے۔ مصنفین، موسیقار اور پروڈکشن ہاؤسز پہلے ہی اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے بغیر معاوضے اور اجازت مواد کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس قانونی چارہ جوئی سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اے آئی کمپنیوں کو عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا کے استعمال کی لامحدود چھوٹ ہونی چاہیے یا نہیں۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت کی صنعت اور کاپی رائٹ قوانین پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اگر عدالت سونی اور وارنر کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو دنیا بھر کی اے آئی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا کی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔ دوسری طرف، اینتھروپک کی جانب سے اس مقدمے کے جواب میں اپنے دفاع کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے، اس پر بھی صنعت کے تمام حلقوں کی گہری نظر ہے۔