Politics
پنجاب اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2026 منظور
پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس قانون کو سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی سازش قرار دیا ہے۔
لاہور میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت شدید ہنگامہ آرائی کی زد میں آ گیا جب حکومت نے اپوزیشن کے شدید تحفظات کے باوجود متنازع انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل 2026 ایوان میں پیش کیا اور اسے منظور کرا لیا۔ اس اہم قانون سازی کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی۔ بحث کا آغاز پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان اور اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کے درمیان آئینی اور قانونی نکات پر بحث سے ہوا۔ اسپیکر ملک محمد احمد خان نے آئین کے آرٹیکل 142 کا حوالہ دیتے ہوئے رولنگ دی کہ بل کو ایوان کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 1990ء کی دہائی کا ذکر کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف ملک کی قربانیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ماضی میں کمزور سیکیورٹی اور گواہوں کے عدم تحفظ کی وجہ سے دہشتگرد بچ نکلتے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ مخالفت کی بجائے تعمیری تجاویز پیش کرے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی اور دیگر اپوزیشن اراکین نے اس بل کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد پنجاب کے عوام اور بالخصوص سیاسی مخالفین کو دبانا ہے۔ انہوں نے اس شق پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جس کے تحت گریڈ بیس کا ایک نامعلوم افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو مقدمات خصوصی سیکیورٹی کیسز کے طور پر نامزد کرنے کی تجویز دے گا۔ اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ ججوں، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کی شناخت چھپانا اور ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کرنا آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے شدید نعرے بازی کی اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد کورم کی نشاندہی بھی کی گئی لیکن حکومتی بنچوں نے مطلوبہ تعداد پوری کرتے ہوئے بل کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا۔
اس نئے قانون کے تحت انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں ایک نئی دفعہ 21-اے اے اے شامل کی گئی ہے جس کے ذریعے 'خصوصی سیکیورٹی کیسز' کا نیا طریقہ کار بنایا گیا ہے۔ بل کے مطابق ایک نامزد اتھارٹی جس کی اپنی شناخت خفیہ رکھی جائے گی، کسی بھی مقدمے کو خصوصی سیکیورٹی کیس قرار دے سکتی ہے۔ اس قانون کے تحت ججوں، سرکاری وکلاء، دفاعی کونسل، پولیس افسران اور گواہوں کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے جبکہ عدالتی احکامات پر ججوں کے ناموں کی بجائے سرکاری عہدے درج ہوں گے۔ حکومتی اراکین کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات انتہائی نوعیت کے دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں تاکہ انصاف کے عمل سے وابستہ افراد کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اس طرح عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچے گا اور یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔