Politics
بلاول بھutto زرداری نے شادی اور منگنی کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھutto زرداری نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اپنی شادی کی تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی افواہوں کا مقصد عوام کی توجہ اصل اور اہم مسائل سے ہٹانا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھutto زرداری نے ان تمام خبروں اور افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ان کی منگنی اور شادی کے حوالے سے مختلف دعوے کیے جا رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے یہ چہ مہگوئیاں جاری تھیں کہ پی پی پی چیئرمین کی شادی کسی یورپی خاندان میں طے پا رہی ہے اور اس سلسلے میں صدر مملکت کے غیر ملکی دوروں کو بھی جوڑا جا رہا تھا۔ ایک ویڈیو بیان میں ان تمام قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھutto زرداری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سوشل میڈیا نے میری بات پکی، منگنی اور شادی سب کچھ کروا دیا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی پرنسس گلوریا نامی خاتون کو بھی نہیں جانتے اور ان کی زندگی سے متعلق اگر کوئی بھی فیصلہ ہوگا تو اس کا باضابطہ اعلان ان کا خاندان خود کرے گا۔ بلاول بھutto نے عوام اور میڈیا کو ہدایت کی کہ وہ اس قسم کے بے بنیاد شوشوں پر توجہ دینے کے بجائے ملک کے حقیقی مسائل پر غور کریں۔ اپنے ویڈیو بیان میں پی پی پی چیئرمین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کے طوفان بدتمیزی کا بنیادی مقصد عوام کی توجہ ملک کے اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کا بھی ذکر کیا جس میں معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں تھیں۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور صوبوں کی تقسیم سے متعلق بیانات پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ملک کو کمزور کرنے یا تقسیم کرنے کی باتیں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ سندھ اسمبلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ صوبے کے معاملات اور آئینی پوزیشن سے متعلق بحثیں سڑکوں یا کاروباری فورمز پر نہیں بلکہ متعلقہ اسمبلی کے ایوان میں ہونی چاہئیں، کیونکہ سندھ وہ پہلا صوبہ تھا جس نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں صدر مملکت آصف علی زرداری کے غیر ملکی دورے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں جنہیں اب بلاول بھutto کے اس واضح بیان کے بعد مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔