World
امریکہ ایران کشیدگی: ٹرمپ کی سخت کارروائی کی دھمکی
امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے حملوں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو امریکہ تہران کو انتہائی سخت جواب دے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ہونے والے ان حملوں نے خطے میں امن کے لیے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جہاں فریقین ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ ایران پر بہت سخت ضرب لگائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی فورسز یا ان کے اتحادیوں کی جانب سے مزید اشتعال انگیزی کی گئی تو امریکہ اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جن میں امریکہ کے لارک جزیرے پر حملے اور اس کے جواب میں اردن میں امریکی تنصیبات پر ہونے والے حملے شامل ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تازہ جھڑپوں نے آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کے سکیورٹی خدات کو بھی بڑھا دیا ہے، جہاں ایرانی راکٹوں اور سمری مائننگ کے خطرات پر بھی بحث کی جا رہی ہے۔
عالمی رہنماؤں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازعے کو حل کیا جائے کیونکہ مزید کشیدگی عالمی معیشت اور خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔