LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران کشیدگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت ردعمل کی دھمکی

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے حملوں کا سخت جواب دے گا اور تہران کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری موجودہ کشیدگی اور لڑائی ایک محدود دائرے تک ہی محدد رہے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے تناظر میں ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے فوجیوں پر ہونے والے حملوں کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا اور ضرورت پڑنے پر ایران کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ واشنگٹن اپنے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی بار براہ راست عسکری تبادلہ خیال اور جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ تہران کی جانب سے مبینہ ردعمل کے بعد امریکی قیادت نے جوابی کارروائی کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تجزیہ کار اس صورتحال کو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی ہے اور حالیہ واقعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ تاہم، اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ فریقین کے درمیان تنازعہ مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کرے گا اور لڑائی ایک محدود دائرے تک ہی محدود رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ خطے میں بڑی جنگ شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن اپنے خلاف ہونے والی ہر کارروائی کا موثر جواب ضرور دے گا۔ عالمی رہنما اور مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی انسانی یا معاشی تباہی کو روکا جا سکے۔