LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور بزرگوں کی صحت: ترجیحات کا فرق اور رکاوٹیں

News Image
جرمیئر ایجنگ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور بزرگ شہریوں کے لیے طبی خدمات فراہم کرنے والوں کی ترجیحات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ یہ تضاد بزرگ افراد کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
جدید طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ رجحان بزرگ شہریوں کی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم جرمیئر ایجنگ (JMIR Aging) نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تازہ ترین تحقیق میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں، فنڈنگ فراہم کرنے والوں اور طبی خدمات استعمال کرنے والوں کے درمیان اہداف اور ترجیحات کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگ افراد کے لیے مخصوص ہیلتھ کیئر سسٹمز میں مصنوعی ذہانت کا نفاذ توقعات سے زیادہ سست اور مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ محققین کے مطابق، جو ادارے مصنوعی ذہانت کے ٹولز تیار کرتے ہیں ان کا بنیادی ہدف اکثر تجارتی منافع، تیز رفتار ڈیٹا پروسیسنگ اور تکنیکی جدت ہوتا ہے، جب کہ دوسری طرف طبی عملہ اور بزرگ مریض سہولت، حفاظت، اور انسانی رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بزرگ شہریوں کو اکثر جدید ڈیجیٹل انٹرفیس استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور جب اے آئی سسٹمز ان کی زمینی حقائق اور مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائے جاتے، تو وہ ان سے استفادہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ فنڈنگ فراہم کرنے والے ادارے بھی طویل مدتی فلاحی فوائد کے بجائے فوری نتائج کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خلیج کو پر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈویلپرز، ڈاکٹرز اور خود بزرگ مریضوں کو ٹیکنالوجی کی تیاری کے ابتدائی مراحل میں شامل کیا جائے۔ باہمی مشاورت کے بغیر تیار کردہ سسٹمز نہ صرف ناقابل استعمال ثابت ہوتے ہیں بلکہ ان پر سے صارفین کا اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے۔ صحت عامہ کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے زور دیا ہے کہ پالیسی سازوں کو ایسی حکمت عملین وضع کرنی چاہیے جو تکنیکی جدت کو بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ہم آہنگ کر سکے، تاکہ ٹیکنالوجی کے ثمرات عمر رسیدہ افراد تک بلا رکاوٹ پہنچ سکیں۔