World
ٹوپاک شکور قتل کیس: سابق گینگ باس ڈیوین ڈیوس مجرم قرار
امریکی ریاست میں ٹوپاک شکور کے قتل کے طویل عرصے سے معمہ بنے کیس میں سابق گینگ باس ڈیوین کیف ڈی ڈیوس کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس عدلتی فیصلے سے تقریباً تین دہائیوں پرانی پراسرار موت کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
امریکہ میں موسیقی کی دنیا کے انتہائی معروف اور مقبول ریپر ٹوپاک شکور کے سن 1996 میں ہونے والے پراسرار قتل کے مقدمے میں ایک بہت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت کی جانب سے سابق گینگ باس ڈیوین 'کیف ڈی' ڈیوس کو اس ہائی پروفائل قتل میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس عدلتی فیصلے کے بعد کئی دہائیوں سے جاری اس بحث اور تجسس کا خاتمہ ہو گیا ہے کہ اس لیجنڈری فنکار کے پیچھے اصل میں کون لوگ ملوث تھے۔
ٹوپاک شکور کو 1996 میں لاس ویگاس میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا، جس نے پوری دنیا کے موسیقی کے پرستاروں کو صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود یہ مقدمہ ایک ان سلجھا معمہ بنا رہا اور اس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں۔ اب سابق گینگ باس ڈیوین ڈیوس کے خلاف ثابت ہونے والے الزامات نے اس اندھے قتل کی تاریخ کے تمام تار جوڑ دیے ہیں، جس سے قانونی اور تفتیشی اداروں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔
اس عدلتی فیصلے کے بعد ہپ ہاپ میوزک انڈسٹری اور دنیا بھر میں موجود ٹوپاک شکور کے مداحوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگرچہ تاخیر سے ہی سہی لیکن قانون کی بالادستی قائم ہو گئی ہے اور ریپر کے قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی طرف یہ ایک تاریخی قدم ہے۔