World
افغانستان میں جبری بیدخلیاں اور چھ ملین متاثرین کی نئی مشکلات
رواں برس پاکستان اور ایران سے واپس بھیجے جانے والے افغان شہریوں کی تعداد میں مزید ایک ملین کا اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اب طالبان کی حکومت میں افغانستان پہنچ کر اپنی زندگی کا آغاز نئے سرے سے کرنے پر مجبور ہیں۔
اگست کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پاکستان اور ایران سے واپس بھیجے جانے والے افغان شہریوں کی تعداد میں ایک ملین کا مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ ان افراد میں سے ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو برسوں یا دہائیوں سے بیرون ملک مقیم تھی اور اب انہیں ایسے ملک میں واپس دھکیل دیا گیا ہے جہاں کے حالات ان کے لیے مکمل طور پر اجنبی ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی افغانستان دیکھا ہی نہیں تھا کیونکہ وہ وہیں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے تھے لیکن اب ان کی زندگیاں ایک بار پھر تاریکی میں ڈوب چکی ہیں۔
طالبان کی حکومت کے تحت افغانستان واپسی پر ان افراد کو شدید معاشی، سماجی اور انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں پہلے ہی روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، اور اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کی واپسی نے مقامی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس انسانی بحران سے فوری طور پر نہ نمٹا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے کیونکہ لاکھوں لوگ بے سروسامانی کے عالم میں سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔
واپس آنے والے مہاجرین بالخصوص خواتین اور بچوں کو بنیادی انسانی حقوق، تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل کرنے میں بھی شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بہت سے خاندان سرپناہ اور خوراک کے شدید بحران کا شکار ہیں، کیونکہ پاکستان اور ایران سے واپسی کے وقت انہیں اپنا بیشتر سامان وہیں چھوڑنا پڑا۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ باعزت زندگی بسر کر سکیں۔