World
روسی حملے میں کیف کے ریلوے کارکنان اور بچوں سمیت 17 افراد زخمی
یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گردونواح میں روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں دو بچوں سمیت 17 افراد زخمی ہو گئے۔ یوکرینی حکام نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک اور ہولناک کارروائی قرار دیا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے مضافاتی علاقوں میں روس کی جانب سے کیے جانے والے نئے اور شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں دو معصوم بچے بھی شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس تازہ ترین حملے کا نشانہ خاص طور پر ریلوے کے کارکنان اور بنیادی ڈھانچے کو بنایا گیا ہے جس سے سویلین آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
حملے کے بعد سے دارالحکومت کیف میں سائرن کی آوازیں گونجتی رہیں اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران ملبے سے لوگوں کو نکالا گیا اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی فورسز جان بوجھ کر سویلین تنصیبات اور ریلوے کے نظام کو نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ ملک بھر میں نقل و حمل اور رسد کے نظام کو مفلوج کیا جا سکے۔
دوسری جانب، بین برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کیف اور دیگر شہروں پر ہونے والے ان مسلسل حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی اس طرح کے حملوں میں تیزی لائی جا رہی ہے تاکہ یوکرین کی توانائی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو تباہ کیا جا سکے۔ یوکرینی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیف کو مزید جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے تاکہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو اس قسم کے تباہ کن حملوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔