Technology
امریکا میں فلاک اے آئی کیمروں اور سرویلنس نیٹ ورک کے خلاف ردعمل
امریکا بھر میں فلاک کے اے آئی کیمروں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک پر سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی تصدیق کے مطابق اس نگرانی کے نظام کے خلاف اب شہری حلقوں سے شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔
امریکہ بھر میں فلاک نامی کمپنی کے کیمروں کا اے آئی سرویلنس نیٹ ورک انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے، لیکن اس توسیع کے ساتھ ہی اس کے خلاف عوامی اور سماجی حلقوں میں تشویش اور ردعمل بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بی بی سی ویریفائی کی جانب سے کیے جانے والے ایک تفصیلی جائزے میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح یہ ڈیجیٹل نگرانی کا نظام پورے ملک میں اپنے پاؤں پھیلا رہا ہے اور اس کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں۔
فلاک کے یہ کیمرے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس اور دیگر ڈیٹا کو بڑی تیزی سے ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مدد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، شہری حقوق کی تنظیموں اور پرائیویسی کے علمبرداروں نے اس بات پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کا وسیع تر ڈیٹا اکٹھا کیا جانا شہریوں کی نجی زندگی میں براہ راست مداخلت کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے ٹیکنالوجی سسٹمز کی شفافیت انتہائی کم ہے اور اس سے غلط استعمال کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
دوسری جانب، متعلقہ حکام اور کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جرائم کی روک تھام اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس نیٹ ورک کی مدد سے مجرموں کا سراغ لگانا اور سکیورٹی کو یقینی بنانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے، جس سے معاشرے کو محفوظ بنانے میں مدد ملتی ہے۔
اس کے باوجود، عوامی سطح پر بڑھتا ہوا دباؤ اور سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس طرح کے بے دریغ استعمال اور انسانی حقوق یا پرائیویسی کے درمیان ایک متوازن لکیر کھینچنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید بحث اور ممکنہ ضابطہ اخقار کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ عوام کے تحفظ اور ان کی نجی آزادی کا بیک وقت تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔