World
یونفیل کا خاتمہ اور لبنان میں یورپی کردار
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یونفیل کی مدت ملازمت رواں سال کے آخر میں ختم ہونے سے اسرائیل کو ممکنہ طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں یورپی ممالک کے لیے خطے میں اہم کردار ادا کرنے کا چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی امن فوج (یونفیل) کا مینڈیٹ رواں سال اکیس دسمبر کو ختم ہو رہا ہے، جس کے بعد لبنان میں ایک بڑا سیکیورٹی خلا پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور سیاسی ماہرین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یورپی ممالک اس نازک موڑ پر آگے بڑھ کر لبنان میں امن و امان کی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس خلا سے بالخصوص اسرائیل کو فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ سرحدی علاقوں میں بین الاقوامی نگرانی کمزور ہو جائے گی۔ یونفیل نے طویل عرصے سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی موجودگی خطے میں ایک عارضی سیکیورٹی ڈھال کی حثیت رکھتی تھی۔ دوسری طرف، یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے لیے اتنی بڑی سیکیورٹی ذمہ داری لینا آسان نہیں ہوگا۔ اس وقت یورپ خود کو کئی داخلی اور معاشی چیلنجز کے ساتھ ساتھ یوکرین جنگ جیسے بڑے تنازعات میں الجھا ہوا پاتا ہے۔ اس کے باوجود، خطے کے استحکام کے لیے یورپ پر سفارتی اور عسکری دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے تاکہ لبنان مزید کسی بڑی تباہی اور خانہ جنگی سے بچ سکے۔ اگر یورپ یا کوئی دوسری عالمی طاقت اس موقع پر موثر لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے انتہائی خطرناک علاقائی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف لبنان بلکہ پورا مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔