World
ٹوپاک شکور قتل کیس: سابق گینگ لیڈر ڈوین ڈیوس مجرم قرار
لاس ویگاس کی ایک جیوری نے 1996 میں معروف امریکی ریپر ٹوپاک شکور کے قتل کے مقدمے میں سابق گینگ لیڈر کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے سے دہائیوں پرانے اس ہائی پروفائل قتل کیس میں انصاف کی ایک اہم منزل طے ہو گئی ہے۔
لاس ویگاس میں ایک عدالت کی جیوری نے طویل عرصے سے زیر التواء اور ہالی ووڈ کی تاریخ کے انتہائی پُراسرار ترین مقدمات میں سے ایک میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق گینگ لیڈر ڈوین ’کیفی ڈی‘ ڈیوس کو مشہور ریپر ٹوپاک شکور کے 1996 میں ہونے والے قتل کا ذمہ دار اور مجرم قرار دے دیا ہے۔ اس عدلتی فیصلے کے بعد دنیا بھر میں موسیقی اور ہپ ہاپ کے پرستاروں کی طرف سے مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے، جو طویل عرصے سے اس المناک واقعے کے انصاف کے منتظر تھے۔
سال 1996 میں لاس ویگاس کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہپ ہاپ کی دنیا کا روشن ستارہ ٹوپاک شکور شدید زخمی ہوگئے تھے اور کچھ روز اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ چل بسے تھے۔ اس وقت اس اندھے قتل نے پوری موسیقی کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کیس کے حوالے سے کئی دہائیوں تک طرح طرح کی کہانیاں اور سازشی نظریات گردش کرتے رہے۔
حالیہ برسوں میں پولیس اور استغاثہ نے اس کیس پر نئے سرے سے تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران ڈوین ڈیوس کے کردار کے شواہد سامنے آئے۔ استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ڈیوس نے ہی اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اپنے ساتھیوں کو اس گھناؤنے فعل پر اکسایا تھا۔ جیوری نے تمام گواہوں، شواہد اور دلائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد بالآخر سابق گینگ لیڈر کو ٹوپاک شکور کے قتل میں باضابطہ طور پر مجرم قرار دے دیا۔
یہ فیصلہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور طویل ترین پاپ کلچر مرڈر مسٹریز میں سے ایک کے انجام کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹوپاک شکور کے چاہنے والوں نے اس عدلتی کارروائی کو سراہا ہے، کیونکہ اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ قانون کے ہاتھ کتنے ہی طویل ہوں، انصاف کے تقاضے پورا ہونے میں وقت ضرور لگ سکتا ہے مگر وہ اپنا راستہ بنا ہی لیتے ہیں۔