World
جی ٹوئنٹی مذاکرات: امریکہ کی جانب سے روسی وزیر خزانہ کی واپسی اور یورپی اعتراضات
امریکہ نے جی ٹوئنٹی مالیاتی مذاکرات میں روسی وزیرِ خزانہ اینٹون سیلوانوف کو دوبارہ شامل کر لیا ہے، جس پر یورپی حکام کی طرف سے سخت ردعمل اور اعتراض سامنے آیا ہے۔ اس سفارتی پیشرفت سے مغربی ممالک کے درمیان روس کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر موجود اختلافات مزید کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے جی ٹوئنٹی مالیاتی مذاکرات میں ایک بار پھر روس کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت روسی وزیرِ خزانہ اینٹون سیلوانوف نے امریکی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا۔ اس اقدام نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور خاص طور پر یورپی ممالک کی طرف سے اس پر شدید اعتراضات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یورپی حکام کا ماننا ہے کہ یوکرین کے تنازع کے بعد روس کو عالمی مالیاتی فورمز سے دور رکھنا چاہیے تھا، تاہم امریکہ کا یہ قدم یوپی اتحادیوں کے لیے حیران کن اور پریشان کن ہے۔
ذرائع کے مطابق، اینٹون سیلوانوف اور امریکی عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ان ملاقاتوں کا مقصد عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور جی ٹوئنٹی کے ایجنڈے پر بات چیت کرنا تھا۔ روایتی طور پر جی ٹوئنٹی دنیا کی بڑی معیشتوں کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے جہاں عالمی مالیاتی استحکام کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ روس کی اس فورم میں فعال موجودگی کو مغربی دنیا میں ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اور حالیہ امریکی فیصلے نے اس تنازع کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے کہ آیا ماسکو کو ان عالمی مذاکرات میں بیٹھنے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔
دوسری جانب، یورپی ممالک کے رہنماؤں نے اس پیشرفت پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کے متعدد سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ معمول کے مطابق سفارتی اور مالیاتی تعلقات بحال کرنا عالمی پابندیوں کے مقاصد کے منافی ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جی ٹوئنٹی کے اندرونی اتحاد میں اب بھی روس کے معاملے پر گہرے اختلافات موجود ہیں، اور واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں کے درمیان حکمت عملی میں فرق بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ خالصتاً زمینی حقائق اور عالمی معیشت کی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہو گا، تاکہ اہم عالمی امور پر کسی تعطل سے بچا جا سکے۔ تاہم، اس اقدام کے طویل مدتی اثرات مغربی اتحاد اور جی ٹوئنٹی کے مستقبل کے فیصلوں پر ضرور مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید سفارتی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے کیونکہ یورپی ممالک اس معاملے پر واشنگٹن سے مزید وضاحت مانگنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔