World
گنی میں اجتماعی قبر سے لاشیں برآمد، افریقی تنظیموں کا تحقیقات کا مطالبہ
گنی کے انتظامی پریفیکچر فورکاریہ میں ہاتھوں اور آنکھوں سے بندھی ہوئی چھ لاشیں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد افریقی غیر سرکاری تنظیموں نے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مغربی افریقی ملک گنی میں انسانی حقوق کی صورتحال اس وقت تشویشناک ہوگئی جب حکام کو ایک اجتماعی قبر سے چھ لاشیں برآمد ہوئیں۔ ان لاشوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور ان کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بے دردی سے قتل کرنے کے بعد دفنایا گیا۔ یہ لاشیں 24 اگست کو فورکاریہ کے انتظامی پریفیکچر سے ملیں، جس کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اس واقعے نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
اس لرزہ خیز واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد افریقی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات قانون کی حکمرانی اور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
ابھی تک گنی کے سرکاری حکام یا سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم پولیس اور متعلقہ ادارے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کے لیے فوری عملی اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں ایسے انسانیت سوز واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی نگاہیں بھی اس وقت گنی کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس واقعہ کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو ملک میں عدم استحکام اور بدامنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ افریقی این جی اوز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھائیں گی تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے اور ذمہ داران کو ان کے انجام تک پہنچایا جا سکے۔