Pakistan
راولپنڈی اسلام آباد بارش نالہ لئی طغیانی تعلیمی ادارے بند
راولپنڈی اور اسلام آباد میں منگل کی صبح ہونے والی شدید بارش کے باعث نشیب و اقتدار علاقے زیر آب آ گئے اور نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے پر انتظامیہ نے تعلیمی ادارے بند کر دیے۔ وفاقی اور ضلعی حکام نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امدادی اداروں کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں منگل کی صبح ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث جڑواں شہروں کے کئی نشیب و فراز علاقے زیر آب آ گئے ہیں جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر ضلعی انتظامیہ نے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ صبح سویرے شروع ہوا جس نے شہر کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کٹاریاں اور گوالمنڈی کے مقامات پر نالہ لئی میں پانی کی سطح بالترتیب 29 فٹ اور 23.5 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد قریبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ بارش کے اس شدید سلسلے کے دوران کیچمنٹ ایریاز میں 200 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جڑواں شہروں کے نشیب و علاقوں میں اربن فلڈنگ کے شدید خطرات منڈلا رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ واسا، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ سمیت تمام ریلیف اور ایمرجنسی محکمے مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں اور نکاسی آب کے کاموں کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر ریکارڈ بارش ہوئی ہے، جن میں شمس آباد میں 201 ملی میٹر اور نیو کٹاریاں میں 186 ملی میٹر بارش شامل ہے۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلاضرورت گھروں سے باہر نکلنے اور سفر کرنے سے گریز کریں۔ دوسری جانب اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای الیون اور دیگر علاقوں میں ڈیڑھ سو ملی میٹر تک بارش ہوئی ہے جس سے نالے ابل پڑے اور سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیکٹر ڈی ٹولہ میں ایک دیوار گرنے کا واقعہ بھی پیش آیا ہے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ راول ڈیم میں پانی کی سطح مقررہ حد سے تجاوز کرنے کے باعث ڈیم کے اسپل ویز دوپہر دو بجے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور انتظامیہ نے شہریوں کو دریاؤں اور نالوں کے قریب جانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے بھی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جس میں موٹر وے اور اہم شاہراہوں پر سفر کرنے والوں کو رفتار کم رکھنے اور فوگ لائٹس استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سابق وزیر ماحولیات شیری رحمان نے بھی متعدد گاڑیوں کے زیر آب آنے کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بارش نے شہر کو ایک خطرناک نکتے پر لا کھڑا کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی ملک کے بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے اور شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔