Pakistan
چاغی میں ریکوڈک قافلے پر حملہ، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک
بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک منصوبے کے گاڑیوں کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں بارہ حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ اس مسلح تصادم کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
کوئٹہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک کاپر اور گولڈ منصوبے سے تعلق رکھنے والے گاڑیوں کے ایک قافلے کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں حملہ آوروں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب ریکوڈک پروجیکٹ کی لگ بھگ تین درجن خالی گاڑیاں سکیورٹی حصار میں پروجیکٹ سائٹ سے کوئٹہ کی طرف سفر کر رہی تھیں۔ چاغی کے علاقے نوکاچا میں نامعلوم مسلح افراد نے اس قافلے کو گھات لگا کر روکنے کی کوشش کی اور اس پر شدید فائرنگ شروع کر دی۔قافلے کے ساتھ موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر مورچے سنبھال لیے اور حملہ آوروں کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔ سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا یہ طویل اور شدید سلسلہ دو گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اس دوران دونوں جانب سے جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں گیارہ دہشت گردوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم بعد میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ اس فائرنگ کے تبادلے میں مجموعی طور پر بارہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس معرکے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا جہاں سے حملہ آوروں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور معصوم شہریوں کا خون بہانے والوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردی اور تشدد کا راستہ اپنانے والے عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا اور ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے موثر اور مربوط کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور صوبے کے امن کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کے بعد پورے خطے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حساس راستوں پر گشت بڑھا دیا گیا ہے تاکہ اس نوعیت کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روکتھام کو یقینی بنایا جا سکے۔