World
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی امریکہ کو صلح کی پیشکش
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن عبوری معاہدے کی پاسداری کرے تو تہران بھی فوری طور پر مثبت ردعمل ظاہر کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران خطے میں جاری کشیدگی کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے واشنگٹن کو صلح کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ عبوری معاہدے کے تحت اپنی وعدہ خلافیوں کو ختم کرتے ہوئے تمام طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کرے گا تو تہران بھی اس کا فوری اور مثبت جواب دے گا۔ ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوںممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور فریقین کے مابین سفارتی سطح پر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران ہرگز جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، بالخصوص تہران اس بات کا قائل ہے کہ تمام تنازعات کا پرامن حل صرف اور صرف گفت و شنید اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کے صدر کی جانب سے یہ بیان واشنگٹن کے ساتھ ایک نرم رخ کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد ممکنہ عسکری تصادم کو روکنا اور اقتصادی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی کے تلخ تجربات اور پالیسیوں کی وجہ سے تناؤ برقرار ہے، تاہم اس قسم کے بیانات سفارتی سطح پر برف پگھلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ اس پیشکش پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور آیا مستقبل میں کسی نئے معاہدے کے امکانات روشن ہوتے ہیں یا نہیں۔