LIVE
Loading Breaking News...

وائٹ ہاؤس اور وینزویلا کا تیل معاہدہ، اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

News Image
وائٹ ہاؤس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں طے پانے والے وینزویلا کے تیل کے معاہدے کی اہم تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکی اور بین الاقوامی توانائی کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے وینزویلا کے ساتھ طے پانے والے تیل کے متنازعہ اور اہم معاہدے کی مزید تفصیلات عوام کے سامنے رکھ دی ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پینٹاگون کو بھی وینزویلا کی تیل کی دولت میں ایک مخصوص حصہ دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ الجزیرہ اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امریکی توانائی کے مفادات کو محفوظ بنانا اور لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ دوسری جانب وینزویلا کی اعلیٰ عہدیدار ڈیلسی روڈریگز نے اس تیل کے معاہدے کے بے شمار فوائد کا پرزور دفاع کیا ہے اور اسے ملک کی معیشت کے لیے انتہائی مفید قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شراکت داری سے ملک کو طویل المدتی بنیادوں پر معاشی استحکام حاصل ہوگا اور توانائی کے شعبے میں نئی راہیں کھلیں گے۔ خبر رساں ایجنسی رয়ٹرز کے مطابق شیورون، او این جی سی اور جی ای ورنোভਾ جیسی بڑی عالمی کمپنیاں وینزویلا میں حتمی معاہدوں پر دستخط کرنے کے قریب تر پہنچ چکی ہیں، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اس معاہدے کے ایک اور اہم پہلو کے تحت ایک امریکی فرم نے وینزویلا کے ان تیل کے کنوؤں کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا ہے جنہیں ماضی میں چینی اور روسی کمپنیاں چلایا کرتی تھیں۔ اس تبدیلی کو عالمی توانائی کی سیاست میں ایک بہت بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے چین اور روس کے وینزویلا میں اقتصادی اثرات کو زبردست دھکا لگنے کا امکان ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف بین الاقوامی توانائی کی منڈی پر اثر انداز ہوگا بلکہ اس سے عالمی سیاست میں طاقت کے توازن میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔