World
نیپال سیلاب تباہی: ہلاکتیں ایک ہزار سے زیادہ، ریسکیو آپریشن تیز
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ریسکیو ادارے اور امدادی ٹیمیں دور دراز کے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔
نیپال میں حالیہ طوفانی بارشوں، شدید سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے واقعات کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور سڑکیں تباہ ہونے کی وجہ سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ حکام کے مطابق سب سے زیادہ نقصان دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں ہوا ہے جہاں طوفانی ریلوں نے بستیوں کی بستیاں تہس نہس کر ڈالی ہیں۔ ریسکیو ورکرز اور سکیورٹی فورسز کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے جب وہ متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے افراد اور سرنگوں میں محصور کارکنوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بہت سے مقامات پر لوگ اب بھی کیچڑ اور ملبے سے بھری سرنگوں اور پلوں کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہیں۔ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے انتہائی ضرورت مند علاقوں میں خوراک، ادویات اور پینے کا صاف پانی پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دریائوں اور نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کے باعث قریبی آبادیوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
حکومتِ نیپال نے ملک بھر میں ہنگامی امدادی سرروائیوں میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے اور بین الاقوامی برادری سے بھی فوری مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے کیونکہ سیلابی پانی کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ طبی ٹیمیں فیلڈ ہسپتال قائم کر کے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں جبکہ گمشدہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشنز دن رات جاری ہیں۔
اس قدرتی آفت کی وجہ سے نیپال کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ بجلی اور مواصلاتی رابطے معطل ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں آ رہی ہیں تاہم انجینئرز اور تکنیکی عملہ راستے بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے بحالی کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔