LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال سانحہ انکوائری رپورٹ پر پارلیمانی عدم اطمینان

News Image
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے سانحے سے متعلق انکوائری رپورٹ پر پارلیمانی کمیٹیوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور قومی اسمبلی کی کمیٹیوں نے اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور مزید رپورٹس طلب کی ہیں۔
اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز میں پیش آنے والے دلخراش سانحے کی انکوائری رپورٹ پر پارلیمانی کمیٹیوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، مختلف پارلیمانی پینلز کا ماننا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں سانحے کے اصل حقائق اور ذمہ داران کا تعین درستگی کے ساتھ نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے اس معاملے کی مزید گہرائی سے جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں اس واقعے پر کڑے سوالات اٹھائے گئے اور حکام سے جواب طلبی کی گئی۔ دوسری جانب، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وزیرِ اعظم کو جمع کروائی جانے والی اس رپورٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ عدالتی سطح پر بھی معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل عدالت عالیہ اور دیگر فورمز پر بھی پمز سانحے کی تحقیقات میں سستی اور غفلت کے حوالے سے آوازیں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر، وفاقی وزیرِ صحت نے ملک بھر کے ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر آگ سے بچاؤ اور برقی آلات کے حفاظتی انتظامات سخت کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین اور پارلیمانی اراکین کا اصرار ہے کہ پمز جیسے اہم قومی ادارے میں غفلت کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ہسپتالوں کے حفاظتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ مریضوں اور عملے کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔