LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اور ایرانی کشیدگی، ٹرمپ کی سخت جوابی کارروائی کی دھمکی

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو سخت نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب تہران نے جون کے معاہدے کی طرف واپسی پر زور دیا ہے اور اس کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں کے تعطل کے بعد ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ اس تازہ ترین محاذ آرائی کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو سخت ترین جوابی کارروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں فریقین کے مابین کشیدگی میں اس اضافے نے بین الاقوامی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ادھر ایرانی دارالحکومت تہران کی جانب سے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششوں کا عندیہ دیا گیا ہے اور جون کے معاہدے کی طرف فوری واپسی پر زور دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے بات چیت اور معاہدوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔ تاہم، امریکی قیادت کی طرف سے ملنے والی سخت دھمکیوں کی وجہ سے سفارتی حل تلاش کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور مبصرین کا خیال ہے کہ صورتحال کسی بھی وقت مزید بگڑ سکتی ہے۔ اس عسکری محاذ آرائی اور بڑھتی ہوئی سیاسی گرما گرمی کے فوری اثرات عالمی معیشت اور توانائی کے بازاروں پر بھی مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں اوپر کی طرف جانا شروع ہو گئی ہیں کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خلیجی خطے سے تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو اس کے عالمی معیشت پر انتہائی منفی اثرات پڑیں گے۔ موجودہ حالات میں بین الاقوامی ادارے اور علاقائی طاقتیں فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ ایک بڑی جنگ کو روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے کیونکہ کسی بھی عسکری مہم جوئی کے خطے اور دنیا بھر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ آنے والے چند دن اس بحران کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔