LIVE
Loading Breaking News...

روسی صدر پیوٹن کی چین کے ساتھ مستقل ویزا فری سفر کی تجویز

News Image
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات کے دوران روس اور چین کے درمیان مستقل ویزا فری سفر کی تجویز پیش کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کے اقدامات کو اعلیٰ سطح کے اسٹریٹجک باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والے اہم مذاکرات کے دوران دونوں ملکوں کے مابین مستقل بنیادوں پر ویزا فری سفر کا نظام نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کا مقصد ماسکو اور بیجنگ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنا اور عوام سے عوام کے رابطوں کو فروغ دینا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات عالمی سطح پر بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ روسی صدر کی جانب سے اس تجاویز پر چین کی جانب سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں اور دونوں ممالک باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔ چین کے وزارت خارجہ اور حکومتی ترجمانوں نے روس اور چین کے درمیان باہمی ویزا فری انتظامات کو دونوں ممالک کے مابین پائے جانے والے اعلیٰ سطح کے اسٹریٹجک باہمی اعتماد کا عملی مظہر قرار دیا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ روس کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے اقدامات سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ سیاحت اور تعلیمی تبادلوں کو بھی زبردست فروغ ملے گا، جس سے دونوں برادر ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب تر آئیں گے۔ ماہرین کے مطابق روس اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ قربت اور سفارتی ہم آہنگی عالمی منڈی اور سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ مغرب کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے بعد روس کا رخ ایشیائی ممالک بالخصوص چین کی طرف نمایاں طور پر بڑھا ہے، اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ مستقل ویزا فری نظام کا یہ تازہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ دونوں دارالحکومت اپنے تعلقات کو طویل مدتی اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، جو آنے والے وقتوں میں خطے میں معاشی اور سیاسی استحکام کا باعث بنے گا۔