LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی، ڈاو جونس میں گراوٹ اور عالمی مارکیٹ کا حال

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فضائی حملوں کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹ میں مندی دیکھی گئی اور ڈاو جونس انڈیکس میں تین سو ستر پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ اس کے باوجود ماہانہ بنیاد پر یہ انڈیکس مسلسل پانچویں مہینے بھی منافعے کے ساتھ بند ہونے میں کامیاب رہا۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حالیہ حملوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی حصص بازار کا معروف ڈاو جونس انڈیکس تین سو ستر پوائنٹس تک گر گیا۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اس اچانک اضافے نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات نے مارکیٹ کے مزاج پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے عسکری اقدامات ہمیشہ عالمی معیشت اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر فوری اثر ڈالتے ہیں۔ اس عارضی گراوٹ کے باوجود، مجموعی کارکردگی کے اعتبار سے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے لیے ایک اچھی خبر یہ سامنے آئی ہے کہ ڈاو جونس انڈیکس نے اگست کے مہینے میں اپنی بہتر کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ اگست کے آخری سیشن میں مندی کے باوجود یہ انڈیکس مسلسل پانچویں مہینے بھی فاتحانہ انداز میں بند ہوا۔ معاشی ماہرین اسے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں بڑے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بنیادی صلاحیت تاحال موجود ہے اور طویل مدتی سرمایہ کار توازن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں اور حملوں کے اثرات صرف اسٹاک مارکیٹ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کا سب سے بڑا اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ سپلائی میں تعطل کے خطرات کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ معروف مالیاتی اداروں اور تجزیہ کاروں نے جغرافیائی خطرات کے بڑھنے کی وجہ سے برینٹ آئل کی مستقبل کی قیمتوں کے تخمینے بھی اوپر کی طرف نظرثانی کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں عالمی معیشت کے لیے آنے والے دن انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اسٹاک مارکیٹس نے ماہانہ بنیاد پر اپنی پوزیشن مضبوط رکھی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کے نئے دباؤ کو جنم دے سکتی ہیں۔ کاروباری حلقے اور مرکزی بینک اس پورے تنازع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بروقت حکمت عملی اپنائی جا سکے۔