AI
یوٹاہ اے آئی مون شاٹ پروگرام: پرو-ہیومن مصنوعی ذہانت کے لیے گرانٹس
یوٹاہ کی حکومت نے پرو-ہیومن مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے پانچ ملین ڈالر کے اے آئی مون شاٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے منصوبوں کی مالی معاونت کرنا ہے جو انسانی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکہ کی ریاست یوٹاہ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے پانچ ملین ڈالر مالیت کے 'اے آئی مون شاٹ پروگرام' کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ایسے جدید ترین تکنیکی منصوبوں کی مالی معاونت کرنا ہے جو 'پرو-ہیومن' یعنی انسانی دوست مصنوعی ذہانت کے فروغ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ اس نئے حکومتی اقدام کے تحت تمام اہل اور معیاری پروجیکٹس کو ایک ملین ڈالر تک کے بڑے گرانٹس فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی تحقیق اور ترقیاتی کاموں کو مزید وسعت دے سکیں۔ یوٹاہ کے گورنر اسپینسر کاکس کی انتظامیہ کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظر نامے میں انسانی اقدار اور اخلاقیات کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس گرانٹ کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی کے ماہرین، ریسرچرز اور کاروباری شخصیات کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ایسے آئیڈیاز پیش کریں جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف کارکردگی بڑھانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے معاشرے کی فلاح و بہبود اور انسانی اقدار کے تحفظ کا ضامن بھی ہونا چاہیے۔ اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں نامور تعلیمی اداروں، ریسرچ لیبارٹریز اور تکنیکی کمپنیوں کی جانب سے زبردست دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حکومتی اقدامات سے نہ صرف علاقائی سطح پر ٹیکنالوجی کی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ پوری دنیا میں ایک مثبت مثال قائم ہوگی کہ کس طرح اے آئی کو انسان دوست بنایا جا سکتا ہے۔ یوٹاہ کا یہ اقدام مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی پالیسی سازی اور اس کے عملی اطلاق کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ٹیکنالوجی انسانی ترقی کی خدمت کرتی نظر آئے گی۔