World
ابرفان ڈزاسٹر: زندہ بچ جانے والوں کی دہائیوں بعد خاموشی توڑنے کی داستان
برطانیہ کے بدترین تاریخی المیے ابرفان میں 116 بچوں سمیت 144 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے بچوں کو دہائیوں تک اس سانحے کے بارے میں بات کرنے سے منع کیا گیا۔
برطانیہ کی تاریخ کے سب سے دلخراش اور تاریک ترین واقعات میں سے ایک ابرفان کا المیہ ہے، جہاں 21 اکتوبر 1966 کی صبح ایک پہاڑی تودہ گرنے سے کوئلے کا ملبہ ویلز کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے پرائمری اسکول پر آ گرا۔ اس ہولناک حادثے میں 116 معصوم بچوں سمیت مجموعی طور پر 144 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ واقعہ برطانوی معاشرے کے لیے ایک ناقابل فراموش صدمہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس سانحے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اسکول کے بچے اس تباہی کا براہ راست شکار بنے تھے۔
اس ہولناک واقعے میں معجزانہ طور پر بچ جانے والے چند اسکولی بچوں نے اب دہائیوں بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت کے حالات اور حکومتی رویے کے تحت انہیں سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس سانحے کے بارے میں کبھی بات نہ کریں۔ ان بچوں کا کہنا ہے کہ اس صدمے سے نکلنے کے لیے انہیں کسی قسم کی نفسیاتی مدد یا کاؤنسلنگ فراہم نہیں کی گئی، بلکہ الٹا اس موضوع کو معاشرتی طور پر دبانے کی کوشش کی گئی تاکہ مزید جذباتی تناؤ سے بچا جا سکے، جس نے ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دور میں نفسیاتی صدمات یا پی ٹی ایس ڈی (PTSD) کو اس طرح نہیں سمجھا جاتا تھا جس طرح آج کے دور میں سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ بچ جانے والے بچوں کو اپنے جذبات کو دبا کر رکھنے پر مجبور کیا گیا، جس سے ان کا کرب اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ کس طرح اس واقعے کے بعد ان کے بچپن کا معصوم پن چھین لیا گیا اور انہیں ایک ایسے خوف کے ساتھ جینا پڑا جس کے بارے میں کسی سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
آج اتنے سال گزر جانے کے بعد، ان متاثرین کا سامنے آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود صدمے کے گہرے نقوش مٹتے نہیں۔ اگرچہ وہ بچے اب بڑی عمر کو پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کی یادوں میں 21 اکتوبر 1966 کا وہ دن اور اس کے بعد کا خاموشی کا حکم آج بھی تازہ ہے۔ اس انکشاف نے ایک بار پھر برطانوی تاریخ کے اس سیاہ باب کو اجاگر کیا ہے اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ کسی بھی بڑے سانحے کے بعد متاثرین بالخصوص بچوں کی ذہنی صحت اور بحالی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔