LIVE
Loading Breaking News...

بیرون ملک مقیم ایرانی جنگ اور حکومت کی مخالفت میں تقسیم

News Image
غیر ممالک میں مقیم ایرانیوں کو جنگ کی مخالفت اور تہران میں موجود حکومت کے خلاف موقف اپنانے کے درمیان ایک عجیب مخمصے کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال بیرون ملک مقیم برادری کے اندر فکری تقسیم اور پیچیدہ سیاسی بحث کو جنم دے رہی ہے۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سکونت پذیر ایرانی کمیونٹی کو ایک ایسے پیچیدہ فکری اور سیاسی مخمصے کا سامنا ہے جس نے انہیں اندرونی طور پر تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں یہ افراد اپنی آبائی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جنگ یا بیرونی جارحیت کے شدید مخالف ہیں، وہیں دوسری طرف وہ تہران میں برسرِ اقتدار حکومت کی پالیسیوں اور آمرانہ رویے کو بھی یکسر مسترد کرتے ہیں۔ اس دوہری صورتحال نے تارکین وطن کے لیے ایک ایسا بحران پیدا کر دیا ہے جہاں ان کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرنا اور ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تقسیم کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم ایرانی حکومت کی تبدیلی کے خواہاں تو ہیں، لیکن وہ کسی بھی ایسی فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کرنا چاہتے جس کا خمیازہ ان کے اپنے عام رشتہ داروں اور ہم وطنوں کو بھگتنا پڑے۔ جنگ کے نفاذ سے ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، جس سے نہ صرف معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوتی ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگیاں بھی براہ راست خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سفارتی دباؤ اور پرامن سیاسی تبدیلی کی بات تو کرتے ہیں، مگر جنگ کے تصور سے ہی خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب، تہران حکومت کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے ان تارکین وطن کے لیے اپنے وطن واپس جانا یا وہاں موجود خاندانوں سے رابطہ رکھنا بھی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کے مخالفین پر بیرون ملک بھی کڑی نظر رکھی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے احتجاجی مظاہروں یا سیاسی سرگرمیوں میں احتیاط سے کام لینے پر مجبور ہیں۔ اس ماحول میں، کمیونٹی کے اندر مختلف گروہوں کے درمیان اس بات پر شدید بحث جاری ہے کہ ایران میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اصل اور مؤثر لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس صورتحال نے بیرون ملک مقیم ایرانیوں کو ایک طویل المدتی ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ وہ اپنے ملک کے روشن مستقبل کے خواب تو دیکھتے ہیں لیکن اس کے حصول کا کوئی بھی واضح اور پرامن راستہ انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس پیچیدہ صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہیں، جہاں تارکین وطن کی آوازیں تہران کی حکومت اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان کہیں دب کر رہ گئی ہیں۔